Ticker

6/recent/ticker-posts

انسان ہی نہیں، جانور بھی بوسہ دیتے ہیں: یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہوا

انسان ہی نہیں، جانور بھی بوسہ دیتے ہیں: یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہوا

انسان بوسہ دیتے ہیں، بندر بوسہ دیتے ہیں، اور قطبی ریچھ بھی ایک دوسرے کے منہ سے منہ ملاتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں عام لگتا ہے، لیکن سائنس کے لیے یہ ایک پرانا معمہ ہے۔ اگر بوسے سے زندگی بچانے یا نسل بڑھانے میں کوئی براہ راست فائدہ نہیں ہوتا، تو پھر یہ عادت دنیا میں آئی کیسے، اور اتنی عام کیوں ہو گئی؟

اب محققین نے اس سوال کا ایک حصہ حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق، ہونٹوں سے بوسہ دینے کا سلسلہ تقریباً 21.5 ملین سال پہلے شروع ہوا، اور یہ وہ خاصیت ہے جو انسانوں اور بندروں کے مشترکہ آباؤ اجداد میں پائی جاتی تھی۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے Evolution and Human Behaviour میں شائع ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ 21.5 ملین سال پہلے کوئی انسان بوسہ دے رہا تھا، بلکہ یہ ہے کہ اس وقت کے قدیم جانداروں میں یہ رویہ موجود تھا، اور بعد میں انسانوں اور بندروں دونوں میں یہ آگے چلا۔

پہلے یہ طے کرنا پڑا کہ بوسہ ہے کیا

مختلف جانوروں میں ایک ہی رویے کا موازنہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایک جانور کا منہ ملانا دوسرے جانور کے منہ ملانے جیسا ہو، یہ ضروری نہیں۔ اس لیے محققین نے پہلے بوسے کی ایک سادہ اور غیر رومانوی تعریف بنائی، تاکہ جذبات اور ثقافت اس تعریف میں شامل نہ ہوں۔

ان کی تعریف کے مطابق، بوسہ وہ غیر جارحانہ منہ کا رابطہ ہے جس میں ہونٹوں یا منہ کے کسی حصے کی حرکت شامل ہو، اور اس دوران خوراک کا تبادلہ نہ ہو۔ یہ شرط اہم ہے، کیونکہ بہت سے جانور ایک دوسرے کو خوراک دیتے وقت منہ ملاتے ہیں، لیکن وہ عمل بوسہ نہیں کہلاتا۔ اس تعریف کے بعد ہی محققین مختلف نسلوں کے رویوں کا ایک دوسرے سے موازنہ کر سکے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ماہر حیاتیات ڈاکٹر مٹلڈا برنڈل اس تحقیق سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق، انسان، بندر اور بن مانس سب بوسہ دیتے ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ بوسہ تقریباً 21.5 ملین سال پہلے ارتقا پذیر ہوا۔ یہ عدد ایک تخمینہ ہے، حتمی تاریخ نہیں، کیونکہ لاکھوں سال پرانے رویوں کی درست تاریخ نکالنا ممکن نہیں ہوتا۔

ایک خاندانی درخت بنایا گیا

محققین نے صرف انسانوں کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے جانوروں، خاص طور پر بندروں پر توجہ دی، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ انسانوں میں بوسہ کہاں سے آیا۔ اس کے لیے انہوں نے ایک ارتقائی خاندانی درخت بنایا، یعنی یہ نقشہ کہ کون سی نسل کس نسل سے نکلی، اور کس نسل میں یہ رویہ موجود تھا اور کس میں نہیں۔

جب مختلف نسلوں میں ایک ہی رویہ پایا جائے، تو سائنس دان یہ دیکھتے ہیں کہ کیا وہ رویہ ان کے مشترکہ آباؤ اجداد میں بھی تھا۔ اگر جواب ہاں ہو، تو اس رویے کی عمر اس آباؤ اجداد کی عمر کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ اسی طریقے سے محققین 21.5 ملین سال کے اندازے تک پہنچے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بوسے کی سائنسی تعریف پر پورا اترنے والا رویہ صرف بندروں میں نہیں ملا۔ محققین کو بھیڑیوں، قطبی ریچھوں اور مارموٹ نامی جانوروں میں بھی ایسا رویہ ملا، اور یہاں تک کہ الباٹراس نامی سمندری پرندوں میں بھی منہ سے منہ ملانے جیسا رویہ دیکھا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سب جانور انسانوں کی طرح بوسہ دیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کا رویہ اس سادہ سائنسی تعریف پر پورا اترتا ہے۔

انسان ہی نہیں، جانور بھی بوسہ دیتے ہیں: یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہوا

نینڈرتھل کا حیران کن تعلق

اس تحقیق کا دوسرا حیران کن نتیجہ نینڈرتھل سے جڑا ہے۔ نینڈرتھل انسانوں کے قدیم اور قریبی رشتہ دار تھے، جو تقریباً 40 ہزار سال پہلے ختم ہو گئے۔ تحقیق کے مطابق، نینڈرتھل بھی بوسہ دیتے تھے، اور امکان ہے کہ انسانوں اور نینڈرتھل نے ایک دوسرے کو بھی بوسہ دیا ہو۔

یہ دعویٰ صرف اندازے پر نہیں ہے۔ اس سے پہلے ایک ڈی این اے تحقیق میں جدید انسانوں اور نینڈرتھل دونوں کے تھوک میں ایک مشترک جرثومہ پایا گیا تھا۔ ڈاکٹر برنڈل کے مطابق، اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دونوں نسلوں کے الگ ہونے کے بعد بھی ان کے درمیان تھوک کا تبادلہ جاری رہا۔ تھوک کا تبادلہ بوسے کا ایک ممکنہ راستہ ہے، اس لیے یہ شواہد اس خیال کو مضبوط کرتے ہیں کہ دونوں نسلیں ایک دوسرے کے قریب آئی تھیں۔

یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ ایک سائنسی نتیجہ ہے، کوئی یقینی تاریخی واقعہ نہیں۔ محققین نے موجودہ شواہد سے یہ نتیجہ نکالا ہے، اور مستقبل میں نئے شواہد اس تصویر کو مزید واضح یا تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔

سوال ابھی باقی ہے: بوسہ کیوں؟

یہ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ بوسہ کب شروع ہوا، لیکن یہ نہیں بتاتی کہ کیوں شروع ہوا۔ یہی اس معمے کا سب سے دلچسپ حصہ ہے۔ اگر کسی رویے سے بقا یا نسل بڑھانے میں براہ راست مدد نہ ملے، تو ارتقا میں وہ رویہ کیوں برقرار رہے؟

اس کے بارے میں دو مشہور نظریات ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ بوسہ ہمارے بن مانس آباؤ اجداد کی صفائی اور دیکھ بھال کے رویے سے نکلا ہو۔ جانور ایک دوسرے کی صفائی کرتے ہیں، ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، اور اس قربت سے ایک نرم رابطہ پیدا ہوا جو آگے چل کر بوسے کی شکل اختیار کر گیا۔

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ بوسہ ساتھی کی صحت اور مطابقت جانچنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ منہ کے قریب آنے سے بو، ذائقہ اور صحت کے اشارے ملتے ہیں، اور یہ معلومات کسی ساتھی کے انتخاب میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ یہ نظریات ابھی ثابت شدہ حقائق نہیں ہیں، بلکہ محققین کے سامنے موجود ممکنہ وضاحتیں ہیں۔

ڈاکٹر برنڈل کو امید ہے کہ یہ نئی تحقیق اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کا دروازہ کھولے گی۔ ان کے مطابق، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بوسہ صرف انسانوں کی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے غیر انسانی رشتہ داروں کے ساتھ مشترک ہے۔ اسے صرف اس لیے پاگل پن یا رومانوی عادت کہہ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ انسانوں میں اس کے رومانوی معنی ہیں۔ اسے ایک سائنسی رویے کے طور پر پڑھنا چاہیے۔

انسان ہی نہیں، جانور بھی بوسہ دیتے ہیں: یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہوا

اس تحقیق سے کیا سیکھنے کو ملتا ہے

پہلا سبق یہ ہے کہ روزمرہ کے عام رویے بھی سائنس کے لیے بڑے سوال بن سکتے ہیں۔ جس چیز کو ہم بغیر سوچے کرتے ہیں، اس کی تاریخ لاکھوں سال پرانی ہو سکتی ہے۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ سائنس میں تعریف بہت اہم ہوتی ہے۔ جب تک بوسے کی واضح تعریف نہ ہو، مختلف جانوروں کا موازنہ ممکن نہیں تھا۔ ایک سادہ تعریف نے محققین کو ایک ایسا نقشہ بنانے میں مدد دی جو پہلے ممکن نہیں تھا۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ انسانوں کی کہانی اکیلی نہیں ہے۔ ہماری بہت سی عادتیں، جذبات اور رویے دوسرے جانداروں کے ساتھ مشترک ہیں۔ بوسے کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ انسان ارتقا کے ایک لمبے سلسلے کا حصہ ہے، اور اس سلسلے میں بندر، بن مانس، نینڈرتھل اور دوسرے جانور بھی شامل ہیں۔

آخر میں، یہ تحقیق ہمیں ایک سادہ بات سکھاتی ہے: سوال پوچھنا ہی سائنس کی شروعات ہے۔ کب، کیسے اور کیوں، یہ تین سوال اگر درست طریقے سے پوچھے جائیں، تو ایک عام سے رویے سے بھی لاکھوں سال کی کہانی نکل آتی ہے.

Post a Comment

0 Comments