اکتوبر 2024 میں اٹلی کے شہر پارما میں ایک سالانہ قدیم اشیا کا میلہ لگا ہوا تھا۔ وہاں مختلف اسٹالز پر پرانی پینٹنگز اور دوسری قدیم چیزیں فروخت کے لیے رکھی گئی تھیں۔ اسی دوران اٹلی کی ثقافتی ورثے کی حفاظت کرنے والی پولیس ٹیم کے افسران بھی میلے میں موجود تھے۔ وہ اسٹالز پر رکھی ہوئی چیزوں کی تصاویر لے رہے تھے، تاکہ ان کا موازنہ چوری شدہ اشیا کے ریکارڈ سے کیا جا سکے۔
چند گھنٹوں کے اندر ان کی ایک نئی ٹیکنالوجی نے ایک تصویر پر نشان لگا دیا۔ وہ تصویر ایک نوجوان عورت کی تھی، جس نے نیلے اور سرخ رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ہاتھ میں ایک جزوی طور پر کھلا ہوا طومار پکڑا ہوا تھا۔ اگلے دن پولیس نے وہ پینٹنگ میلے سے اپنی تحویل میں لے لی، تاکہ ماہرین اس کی جانچ کر سکیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کوئی عام پینٹنگ نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی پینٹنگ تھی جو 20 سال پہلے چوری ہوئی تھی اور جس کی شکل بدل دی گئی تھی تاکہ اسے پہچانا نہ جا سکے۔
یہ کہانی اس لیے اہم ہے کہ اس میں مصنوعی ذہانت نے وہ کام کیا جو انسانوں کے لیے بہت مشکل تھا۔ پرانی تصاویر، لاکھوں ریکارڈز اور بدلی ہوئی شکلوں کے درمیان سے اصل چیز کو ڈھونڈ نکالنا، یہی اس نئے نظام کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اٹلی کی پولیس کے پاس اتنا بڑا ریکارڈ کیوں ہے
اٹلی میں ثقافتی ورثے کی چوری ایک پرانا مسئلہ ہے۔ اس ملک میں ہزاروں سال پرانی عمارتیں، گرجا گھر، عجائب گھر اور قدیم کھنڈرات ہیں۔ اس لیے چوری شدہ اور غیر قانونی طور پر کھودی گئی اشیا کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ 1969 سے اٹلی کی پولیس چوری شدہ ثقافتی اشیا کا ریکارڈ رکھ رہی ہے، اور آج یہ دنیا کا سب سے بڑا ایسا ریکارڈ بتایا جاتا ہے۔ اس میں دس لاکھ سے زیادہ اشیا درج ہیں، جن میں بڑی بڑی پینٹنگز سے لے کر قدیم رومی اور ایٹروسکن دور کی چیزیں بھی شامل ہیں۔
اس ریکارڈ میں ہر روز نئی اطلاعات شامل ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن ایک مسئلہ یہ تھا کہ اس کی بہت سی اندراجات میں اصل چیز کی تصویر موجود نہیں تھی، یا تصویر بہت پرانی اور خراب معیار کی تھی۔ بعض تصاویر کئی دہائیاں پرانی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر تھیں، جن سے چیز کی اصل شکل سمجھنا مشکل تھا۔
پرانے طریقے میں افسران میلوں، دکانوں اور نیلام گھروں میں جا کر چیزوں کو خود دیکھتے تھے، اور پھر لاکھوں ریکارڈز میں لفظوں کے ذریعے تلاش کرتے تھے۔ یہ طریقہ سست تھا، اور اس میں غلطی کا امکان بھی بہت زیادہ تھا۔ اگر چور نے پینٹنگ کی شکل بدل دی ہو، تو لفظوں کی تلاش اسے کبھی نہیں ڈھونڈ سکتی تھی۔
ایک نیا نظام کیسے بنا
اس ٹیم میں 2013 میں ایک آئی ٹی انجینئر شامل ہوئے، جن کا نام سلواٹورے ریپیکاوولی بتایا جاتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے لاکھوں تصاویر کا موازنہ بہت تیزی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس سوچ پر کام شروع ہوا، اور 2020 میں ٹیم نے ایک خاص مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کیا، جس کا نام سوڈز رکھا گیا۔ یہ نام انگریزی الفاظ کا مخفف ہے، جس کا مطلب ہے چوری شدہ فن پاروں کی شناخت کا نظام۔
یہ نظام نومبر 2023 سے باقاعدہ استعمال میں آیا۔ اس کے بعد سے ٹیم نے 300 سے زیادہ چوری شدہ پینٹنگز اور مجسمے واپس حاصل کیے ہیں، اور تقریباً 65 ہزار چھوٹی اشیا بھی برآمد کی ہیں، جن میں سکے، تمغے، خطوط، مخطوطات، مذہبی اشیا، ڈاک ٹکٹ اور کارڈ شامل ہیں۔ ان سب کی مجموعی قیمت 203 ملین یورو سے زیادہ بتائی گئی ہے، جو تقریباً 170 ملین پاؤنڈ اور 226 ملین ڈالر کے برابر ہے۔
یہ نظام لفظوں سے نہیں، بلکہ تصاویر سے کام کرتا ہے۔ یہ رنگوں کے شیڈز، خاکے کی ساخت اور مجموعی شکل کا موازنہ کرتا ہے۔ اس لیے اگر کسی پینٹنگ کو کاٹ کر اس کے ٹکڑے الگ الگ بیچے جائیں، یا اس کی شکل بدل دی جائے، تو بھی نظام اس کے اصل حصوں کو پہچان سکتا ہے۔ ٹیم کے مطابق، مشین تھکتی نہیں ہے، اور وہ دن رات کیٹلاگز، آن لائن دکانوں، سوشل میڈیا اور ڈارک ویب کو بھی اسکین کر سکتی ہے۔
سینٹ ایگنس کی پینٹنگ کی کہانی
پارما میلے میں ملنے والی پینٹنگ کی کہانی اس نظام کی طاقت کو سب سے اچھی طرح سمجھاتی ہے۔ اصل پینٹنگ 17ویں صدی کی تھی، جس میں سینٹ ایگنس کی تصویر تھی۔ اس میں وہ ایک سفید بھیڑ اور کھجور کی شاخ پکڑے ہوئے تھیں۔ یہ پینٹنگ 11 اگست 2004 کی رات کو نیپلز کے قریب سولومونا نامی جگہ کے ایک چھوٹے سے چرچ سے چوری ہوئی تھی۔ وہ چرچ پارما میلے سے 500 کلومیٹر سے زیادہ دور تھا۔
چوری کے بعد پینٹنگ کی شکل بدل دی گئی تھی۔ سفید بھیڑ کو طومار کی شکل میں دوبارہ پینٹ کر دیا گیا، اور سر کے گرد ہالہ اور کھجور کی شاخ مٹا دی گئی۔ اس تبدیلی کے بعد وہ سینٹ کی تصویر نہیں لگتی تھی، بلکہ ایک عام نوجوان عورت کی تصویر لگتی تھی۔ اس لیے اگر کوئی افسر لفظوں سے تلاش کرتا کہ طومار والی عورت کی پینٹنگ کہاں ہے، تو اسے یہ چوری شدہ پینٹنگ کبھی نہیں ملتی، کیونکہ اصل ریکارڈ میں طومار کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
مصنوعی ذہانت نے رنگوں، نمونوں اور ساخت کا موازنہ کر کے اسے پہچان لیا۔ جب نظام نے اصل پینٹنگ کی تصویر دکھائی تو انسانی آنکھ کو بھی مماثلت فوراً نظر آ گئی۔ اس کے بعد تحقیقات سے تصدیق ہوئی کہ یہ وہی تقریباً ایک میٹر لمبی پینٹنگ ہے جو 2004 میں چوری ہوئی تھی۔
اس کیس میں کوئی مقدمہ نہیں چلا، کیونکہ چوری کو 20 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا اور اطالوی قانون کے تحت اس پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا تھا۔ جس تاجر سے یہ پینٹنگ ملی تھی، اس کے پاس اس کی ملکیت کی زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ 20 مئی 2025 کو ٹیم نے یہ پینٹنگ واپس اسی چرچ کو دے دی، جہاں بحالی کے بعد اسے دوبارہ اپنی اصل جگہ پر لگایا جائے گا۔ مقامی لوگوں نے اس واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔
ایک اور پرانی چوری کا سراغ
یہ نظام صرف اسی ایک کیس میں کامیاب نہیں ہوا۔ 2026 میں اسی سافٹ ویئر کی مدد سے ایک اور پینٹنگ بھی واپس ملی، جس کا نام ریپوسو ڈیلا پاسٹوریلا بتایا جاتا ہے۔ یہ پینٹنگ اطالوی مصور فلیپو پالیزی کی تھی، اور اسے جون 1972 میں ایک جدید آرٹ گیلری سے چوری کیا گیا تھا۔ وہ چوری اتنی سنگین تھی کہ گیلری 30 سال سے زیادہ عرصے تک بند رہی۔ اس بار نظام نے یہ پینٹنگ ایک نیلام گھر کی ویب سائٹ پر معمول کی آن لائن نگرانی کے دوران پہچان لی، اور پھر ٹیم نے اسے ٹورن میں واپس حاصل کر لیا۔
مصنوعی ذہانت مددگار ہے، متبادل نہیں
اس کامیابی کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے۔ آرٹ کی تصدیق کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والی ایک کمپنی کی شریک بانی کے مطابق، یہ نظام صرف ایک خاص سوال کا جواب دیتا ہے کہ کیا یہ تصویر چوری شدہ چیز سے ملتی ہے یا نہیں۔ یہ چوروں کو گرفتار نہیں کر سکتا، اور نہ ہی ان چیزوں کو پہچان سکتا ہے جو ریکارڈ میں درج ہی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت کو صلاحیت بڑھانے والا آلہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ انسان کا متبادل۔
امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کی آرٹ کرائم ٹیم کے سابق سربراہ بھی اسی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، سافٹ ویئر انسانی تجزیے کی جگہ نہیں لے سکتا۔ اس کی کئی حدود ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر تربیتی ڈیٹا خراب ہو تو نظام غلط نتائج دے سکتا ہے۔ تین جہتی چیزوں کا موازنہ بھی مشکل ہے، جیسے ایک گلدان کی تصویر چوری کی رپورٹ میں سامنے سے لی گئی ہو، لیکن فروخت کے اشتہار میں پیچھے سے لی گئی ہو۔ اس کے علاوہ، نظام سے ملنے والے سراغوں پر عمل کرنے کے لیے بڑی ٹیم چاہیے ہوتی ہے۔ اٹلی کی آرٹ کرائم یونٹ میں تقریباً 300 افسران ہیں، جبکہ امریکی ٹیم اپنے عروج پر بھی صرف 24 افسران پر مشتمل تھی۔
اس کہانی سے کیا سیکھنے کو ملتا ہے
اس کہانی سے سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ ٹیکنالوجی صرف نئی چیزیں بنانے کے لیے نہیں ہے، بلکہ پرانی اور کھوئی ہوئی چیزوں کو واپس لانے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ ایک پینٹنگ جو 20 سال تک غائب رہی، وہ صرف اس لیے واپس ملی کہ کسی نے لاکھوں تصاویر کا موازنہ کرنے کا ایک نیا طریقہ سوچا تھا۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ انسان کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔ نظام نے پینٹنگ کی طرف اشارہ کیا، لیکن اس کی تصدیق اور واپسی کا کام انسانوں نے ہی کیا۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ ریکارڈ رکھنا کتنا اہم ہے۔ اگر 1969 سے چوری شدہ اشیا کا ریکارڈ نہ رکھا جاتا، تو 2004 کی چوری کا موازنہ کرنے کے لیے کوئی بنیاد ہی نہ ہوتی۔
آخر میں، یہ کہانی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ثقافتی ورثہ انسانیت کی مشترکہ تاریخ کا حصہ ہے۔ جب کوئی ایسی چیز واپس ملتی ہے تو ایک پوری کمیونٹی کو اس کی یاد واپس ملتی ہے.






0 Comments