Ticker

6/recent/ticker-posts

تخت کے قریب، پھر بازاروں میں ننگے پاؤں: ایلینور کوبہم کی کہانی

ایک ڈچز جو ملکہ بننے کے قریب تھی

پندرہویں صدی کے انگلستان میں ایک عورت تخت سے صرف ایک قدم کی دوری پر تھی۔ اس کا نام ایلینور کوبہم تھا، اور وہ گلوسٹر کے ڈیوک ہمفری کی بیوی تھیں۔ ہمفری اس وقت کے بادشاہ ہنری ششم کے وارث سمجھے جاتے تھے، کیونکہ بادشاہ کمزور تھے اور ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر حالات اسی طرح رہتے تو ایک دن ہمفری بادشاہ بن سکتے تھے اور ایلینور ملکہ۔

یہی قربت ان کی طاقت بھی تھی اور کمزوری بھی، کیونکہ تخت کے قریب شخص کے دوست بھی زیادہ ہوتے ہیں اور دشمن بھی۔

تخت کے قریب، پھر بازاروں میں ننگے پاؤں: ایلینور کوبہم کی کہانی

دربار میں طاقت کی کشمکش

ہمفری کا دربار میں اثر پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ ان کے سیاسی مخالفوں میں ایک اہم نام کارڈینل ہنری بیوفورٹ کا تھا، جو ہمفری کے سوتیلے چچا بھی تھے اور دربار میں ان کے حریف بھی۔ جب کسی طاقتور شخص کا اثر کم ہونے لگتا ہے تو اس کے خاندان پر دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے، اور ایلینور اس دباؤ کا نشانہ بنیں۔

اس دور میں بادشاہ کی صحت، وارث کا سوال اور تخت کی جانشینی، یہ سب صرف خاندانی معاملات نہیں تھے، بلکہ پورے ملک کی سیاست سے جڑے ہوئے تھے۔ جو خاندان تخت کے قریب ہوتا، اس کے بارے میں ہر بات، ہر ملاقات اور ہر فیصلہ غور سے دیکھا جاتا۔ اس ماحول میں ایک الزام بھی کافی تھا کہ کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچ جائے، چاہے وہ الزام ثابت ہو یا نہ ہو۔

الزامات کیا تھے؟

سن 1441 میں ایلینور پر جادو ٹونے، بدعت اور روحوں سے رابطے سمیت کئی سنگین الزامات لگائے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے خلاف کل اٹھارہ الزامات تھے۔ ان میں یہ دعوے شامل تھے کہ انہوں نے چھپی ہوئی باتیں جاننے کے لیے روحوں کو بلایا، جادوئی دوائیں حاصل کیں، بادشاہ کی موت کے بارے میں ستاروں کا حساب لگوایا اور بادشاہ کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کا موم کا مجسمہ بنوایا۔

یہ الزامات سننے میں آج عجیب لگ سکتے ہیں، لیکن اس زمانے میں ان کا مطلب بہت سنگین تھا۔ اگر کوئی شخص بادشاہ کی موت کی پیش گوئی کرے یا اس کے خلاف جادو کا الزام لگے تو اسے صرف ذاتی گناہ نہیں، بلکہ ریاست کے خلاف سازش بھی سمجھا جا سکتا تھا۔ اسی لیے ایلینور کا معاملہ صرف ایک عورت کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ تخت اور طاقت کا معاملہ بن گیا۔

ایلینور نے ان تمام الزامات کو تسلیم نہیں کیا۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے صرف اتنا مانا کہ انہوں نے مارجری جورڈمین سے محبت اور اولاد سے متعلق دوائیں لی تھیں۔ مارجری کو اس وقت آئی کی جادوگرنی کہا جاتا تھا۔ ایلینور کا یہ محدود اعتراف شاید اس لیے تھا کہ معاملہ غداری کے الزام تک نہ پہنچے، کیونکہ غداری کی سزا کہیں زیادہ سخت ہو سکتی تھی۔

تخت کے قریب، پھر بازاروں میں ننگے پاؤں: ایلینور کوبہم کی کہانی

اس زمانے میں ستارے اور دوائیں کتنی عام تھیں؟

آج ہم ستاروں کے حساب اور پرانی دواؤں کو توہم پرستی کہہ سکتے ہیں، لیکن پندرہویں صدی میں صورت حال مختلف تھی۔ شاہی گھرانوں میں بھی نجومیوں سے مشورہ لینا، ستاروں کا حساب لگوانا اور مختلف بیماریوں یا پریشانیوں کے لیے پرانی ترکیبیں آزمانا کوئی انوکھی بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔ کئی مورخین اسی نکتے پر زور دیتے ہیں کہ ایلینور کے خلاف جو باتیں پیش کی گئیں، وہ اس دور کے عام رواجوں سے بہت الگ نہیں تھیں۔

اس لیے کئی محققین کا خیال ہے کہ یہ مقدمہ اصل میں ایلینور کی شخصیت یا ان کے عقائد سے زیادہ، دربار کی سیاست کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق الزامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ ہمفری کے خاندان کو کمزور کیا جا سکے اور ان کے مخالفوں کو فائدہ ہو۔ اس رائے کے حامیوں میں جیما ہولمین شامل ہیں، جنہوں نے شاہی خاندان کی خواتین اور جادو کے الزامات پر کتاب لکھی ہے، اور نیشنل آرکائیوز سے وابستہ ڈاکٹر ایون راجر بھی اسی سمت میں سوچتے ہیں۔

ایک اور اہم نکتہ ثبوت کا ہے۔ مقدمے میں ایک اہم گواہی راجر بولنگ بروک کی تھی، جو ایلینور کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ کئی مورخین کا کہنا ہے کہ ان کا اعتراف دباؤ یا تشدد کے تحت لیا گیا ہو سکتا ہے، اس لیے اسے پوری طرح قابل اعتماد نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر مرکزی ثبوت ہی مشکوک ہو تو پورا مقدمہ بھی مشکوک ہو جاتا ہے۔

دوسری رائے: کیا ایلینور واقعی جادو کرتی تھیں؟

ہر مورخ اس رائے سے متفق نہیں ہے۔ ناول نگار فلپا گریگوری نے اپنی نئی تاریخی ناول رائل وچ میں ایلینور کو ایک مختلف رنگ میں پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق ایلینور کوئی بے بس شکار نہیں تھیں، بلکہ ایک پرعزم اور بے رحم عورت تھیں جو تخت تک پہنچنے کے لیے واقعی جادو کا سہارا لیتی تھیں۔

گریگوری کا استدلال یہ ہے کہ ایک ڈچز، جو اپنے عروج پر ہو، اس کے خلاف اتنا بڑا مقدمہ بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے چلانا آسان نہیں تھا۔ ان کے خیال میں ایلینور کے خلاف شواہد اتنے کمزور نہیں تھے جتنے بعض مورخین بتاتے ہیں۔ یہ رائے اس کہانی کو مزید دلچسپ بنا دیتی ہے، کیونکہ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ صرف سیاست تھی یا صرف جادو، بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ طاقت کی خواہش انسان کو کہاں تک لے جا سکتی ہے۔

ایک ہی واقعے کو دو نظروں سے دیکھا جا سکتا ہے، ایک میں وہی عورت مظلوم لگتی ہے اور دوسری میں سازش کرنے والی۔ سچ شاید ان دونوں کے درمیان ہو، یا ہمیں کبھی مکمل معلوم ہی نہ ہو سکے، کیونکہ اس زمانے کے ریکارڈ نامکمل ہیں۔

سزائیں اور عوامی رسوائی

اس مقدمے کے نتائج بہت سخت تھے۔ راجر بولنگ بروک اور مارجری جورڈمین کو سخت سزائیں دی گئیں، اور دونوں کی موت ہو گئی۔ ایلینور کو موت کی سزا تو نہیں دی گئی، لیکن ان کی سزا بھی کم رسوا کن نہیں تھی۔

انہیں تین دن تک لندن کے مصروف ترین بازاروں میں ننگے پاؤں، ہلکے لباس میں، ہاتھ میں موم بتی لیے چلنا پڑا۔ یہ چلنا دن کے مصروف اوقات میں ہوتا تھا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھیں۔ اس کا مقصد صرف سزا دینا نہیں تھا، بلکہ سب کے سامنے مثال بنانا تھا کہ شاہی خاندان کے خلاف جانے کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ایلینور کو عمر قید کی سزا دی گئی، اور وہ اپنی باقی زندگی قید میں گزارنے پر مجبور ہوئیں۔

اس وقت سزا صرف مجرم کو تکلیف دینے کے لیے نہیں، بلکہ لوگوں کو ڈرانے اور طاقت دکھانے کے لیے بھی دی جاتی تھی۔

اس واقعے نے تاریخ کا رخ کیسے بدلا؟

ایلینور کا زوال صرف ایک خاندان کا زوال نہیں تھا۔ اس سے لنکاسٹر خاندان کمزور ہوا، جس سے ہمفری کا تعلق تھا، اور یارک خاندان کو فائدہ ہوا۔ آگے چل کر انگلستان میں گلابوں کی جنگ کے نام سے مشہور تین دہائیوں پر محیط خانہ جنگی ہوئی، جس میں سرخ گلاب لنکاسٹر اور سفید گلاب یارک کی علامت بنے۔

اس مقدمے کا اثر قوانین پر بھی پڑا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد بننے والے بعض قوانین بعد میں این بولین کے خلاف بھی استعمال ہوئے، جب ہنری ہشتم اپنی شادی ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس طرح ایک مقدمہ، جو بظاہر ایک عورت اور جادو کے الزام سے شروع ہوا تھا، آگے چل کر شاہی خاندان کی کئی نسلوں کی سیاست پر اثر انداز ہوا۔

یوں ایک دربار کی سازش اور ایک مقدمے نے انگلستان کی بادشاہت اور قوانین کی سمت بدل دی۔

آج ہم اس کہانی سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

آج کے دور میں ہم جادو ٹونے کے الزامات کو اس طرح نہیں دیکھتے، لیکن الزام کو ہتھیار بنانے کا طریقہ آج بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ جب کسی شخص کو کمزور کرنا ہو تو اس کی ذاتی زندگی، اس کے عقائد یا اس کی کمزوریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تاکہ اصل سیاسی یا ذاتی مقابلہ پس منظر میں چلا جائے۔ ایلینور کی کہانی اس کی پرانی مثال ہے۔

دوسری طرف، یہ کہانی یہ بھی دکھاتی ہے کہ اس زمانے میں شاہی خاندان کی عورتیں بھی آسانی سے نشانہ بن جاتی تھیں، خاص طور پر جادو کے الزام پر۔ سوال آج بھی یہی ہے کہ کیا ان کے ساتھ انصاف ہوا تھا، یا انہیں صرف اس لیے سزا ملی تھی کہ وہ ایک طاقتور مرد کے قریب تھیں۔

تخت کے قریب، پھر بازاروں میں ننگے پاؤں: ایلینور کوبہم کی کہانی

نتیجہ

ایلینور کوبہم کی کہانی صرف جادو کی کہانی نہیں ہے، بلکہ طاقت، خوف، سیاست اور انصاف کی کہانی ہے۔ وہ تخت کے قریب تھیں، پھر الزامات کی زد میں آئیں، پھر بازاروں میں رسوا ہوئیں اور آخر میں قید میں زندگی گزاری۔ چاہے وہ مظلوم تھیں یا پرعزم سازش کرنے والی، ان کا زوال انگلستان کی تاریخ میں ایک موڑ ثابت ہوا۔

ایلینور کی کہانی یہ سکھاتی ہے کہ الزام لگانا آسان ہے، لیکن سچ تک پہنچنا مشکل، اور یہی مشکل تاریخ کو دلچسپ بنائے رکھتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments