Ticker

6/recent/ticker-posts

فیکٹری سے ہی چھپا دروازہ: 13 لاکھ اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز کیسے بوٹ نیٹ بن گئے

ایک عام ٹی وی باکس، ایک غیر معمولی انکشاف

گھر میں ٹی وی کے نیچے رکھا ہوا ایک چھوٹا سا باکس عام طور پر کسی کو مشکوک نہیں لگتا۔ وہ فلمیں چلاتا ہے، بچوں کے کارٹون دکھاتا ہے، اور پھر خاموشی سے اپنی جگہ پر پڑا رہتا ہے۔ لیکن نومبر 2026 کے آغاز میں گوگل کی تھریٹ انٹیلی جنس ٹیم نے جو انکشاف کیا، اس نے اس عام سی چیز کو ایک بڑے سیکیورٹی سوال میں بدل دیا۔ گوگل کے مطابق، دنیا بھر میں 13 لاکھ سے زیادہ اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز کے اندر ایک خفیہ دروازہ، یعنی بیک ڈور، پہلے سے نصب تھا۔ یہ دروازہ کسی ہیکر نے بعد میں نہیں ڈالا تھا، اور نہ ہی کسی وائرس کے ذریعے پھیلا تھا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ اسے باکس بنانے والی کمپنی نے خود ہی فیکٹری میں فرم ویئر کا حصہ بنا دیا تھا، اور پھر اس کے ذریعے مجرموں کو ان ڈیوائسز تک رسائی بیچی گئی۔ یہ خبر اس لیے بھی حیران کن ہے کہ متاثرہ باکسز میں سے بہت سے گوگل سے تصدیق شدہ، یعنی سرٹیفائیڈ، ڈیوائسز تھے۔


فیکٹری سے ہی چھپا دروازہ: 13 لاکھ اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز کیسے بوٹ نیٹ بن گئے


بیک ڈور کیا ہوتا ہے، اور XCPE کیسے کام کرتا تھا؟

سادہ زبان میں بیک ڈور کا مطلب ہے ایک چھپا ہوا راستہ، جس سے کوئی شخص ڈیوائس کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کے اندر داخل ہو سکے۔ گوگل کے مطابق اس کیس میں اس خفیہ راستے کا نام XCPE تھا، جسے تکنیکی طور پر x.cpe بھی کہا گیا ہے، اور بعض صورتوں میں یہ com.oemservice کے نام سے چلتا تھا۔ یہ کوئی عام ایپ نہیں تھی جسے صارف دیکھ کر ڈیلیٹ کر سکے۔ یہ سسٹم کی سطح پر چلتا تھا، یعنی اسے ڈیوائس کے اندرونی نظام تک وہ اختیار حاصل تھا جو عام ایپس کو نہیں ملتا۔ اس کے ذریعے دور بیٹھے ہوئے آپریٹر ڈیوائس پر خفیہ طور پر نئی ایپس انسٹال کر سکتے تھے، کمانڈز چلا سکتے تھے، اور دوسرے نقصان دہ پروگراموں کے لیے راستہ کھول سکتے تھے۔ گوگل کی رپورٹ کے مطابق یہ بیک ڈور کئی سالوں کے دوران کئی ماڈلز اور کئی برانڈز کے باکسز میں شامل کیا گیا، کیونکہ باکس بنانے والی کمپنی صرف اپنے نام سے نہیں، بلکہ دوسری کمپنیوں کے لیے بھی ہارڈ ویئر بناتی تھی۔

یہ دروازہ اتنے عرصے کیسے چھپا رہا؟

یہ سوال سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔ گوگل کے مطابق کمپنی نے تصدیق کے عمل میں ایک خلا کا فائدہ اٹھایا۔ رپورٹوں کے مطابق، جانچ کے وقت یہ خفیہ کوڈ غیر فعال حالت میں تھا، اور ڈیوائس کے پہلی بار آن ہونے کے بعد ہی اسے فعال کیا گیا۔ یوں سرٹیفکیشن کے دوران یہ نظر نہیں آیا، اور بعد میں یہ خاموشی سے کام کرنے لگا۔ گوگل نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے اپنے جائزے کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی ہیں اور سرٹیفائیڈ اینڈرائیڈ ٹی وی ڈیوائسز کے لیے فرم ویئر کی جانچ کو سخت کر دیا ہے۔ لیکن یہ تبدیلیاں مستقبل کے لیے ہیں۔ جو ڈیوائسز پہلے ہی گھروں میں پہنچ چکی ہیں، ان کے لیے یہ تبدیلی کوئی فوری حل نہیں ہے۔ گوگل نے اس الزام کو ہلکے الفاظ میں نہیں بیان کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بہت زیادہ اعتماد کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یہ بیک ڈور جان بوجھ کر بنایا گیا، چلایا گیا، اور مالی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ یعنی گوگل کے مطابق یہ نہ کسی ملازم کی انفرادی حرکت تھی، اور نہ ہی کوئی حادثاتی غلطی۔

ان باکسز سے کیا کیا کروایا گیا؟

جب کوئی ڈیوائس کسی بوٹ نیٹ کا حصہ بن جاتی ہے، تو اس کا مالک اکثر کچھ محسوس نہیں کرتا۔ ٹی وی ویسے ہی چلتا رہتا ہے، اور باکس کی رفتار میں بھی کوئی واضح فرق نظر نہیں آتا۔ لیکن پس منظر میں وہ ڈیوائس کسی اور کے کام آ رہی ہوتی ہے۔ گوگل اور اس کے شراکت داروں کے مطابق XCPE کے ذریعے ان باکسز کو بنیادی طور پر دو کاموں کے لیے استعمال کیا گیا۔ پہلا کام ریزیڈینشل پراکسی کا تھا، یعنی مجرموں کا انٹرنیٹ ٹریفک متاثرہ گھروں کے انٹرنیٹ کنکشن سے گزارا جاتا تھا، تاکہ وہ اپنی اصل شناخت چھپا سکیں۔ دوسرا کام اشتہاری دھوکہ دہی، یعنی ایڈ فراڈ، تھا، جس میں جعلی کلکس اور جعلی ناظرین کے ذریعے اشتہاری نظام کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس بیک ڈور کے ذریعے دوسرے نقصان دہ پروگرام بھی ان ڈیوائسز پر انسٹال کیے گئے۔ گوگل کے مطابق اس کارروائی میں ایک درجن سے زیادہ مال ویئر فیملیز کے کنٹرول ڈومینز بھی بند کیے گئے۔


فیکٹری سے ہی چھپا دروازہ: 13 لاکھ اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز کیسے بوٹ نیٹ بن گئے



پیمانہ کتنا بڑا تھا؟

اعداد و شمار اس واقعے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ گوگل کے مطابق بوٹ نیٹ میں 13 لاکھ سے زیادہ ڈیوائسز شامل تھیں، جن میں زیادہ تر اینڈرائیڈ ٹی وی سیٹ ٹاپ باکسز تھے۔ تاہم یہی بیک ڈور کچھ ٹیلی ہیلتھ ڈیوائسز، کراؤکے مشینوں اور ڈیجیٹل سائن بورڈز میں بھی پایا گیا۔ مختلف ذرائع کے مطابق متاثرہ ڈیوائسز 200 سے زیادہ ممالک میں پھیلی ہوئی تھیں۔ ٹرینڈ مائیکرو کی انٹرپرائز یونٹ ٹرینڈ اے آئی کے اعداد کے مطابق، 3 جون سے یکم اکتوبر کے درمیان 206 ماڈلز میں 1,472,554 متاثرہ ڈیوائسز گنی گئیں، اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کم نہیں ہو سکتی۔ اسی عرصے میں 38 لاکھ سے زیادہ مختلف گھریلو اور موبائل آئی پی ایڈریسز اس آپریشن کے انفراسٹرکچر سے منسلک پائے گئے۔

کارروائی کیسے ہوئی؟

گوگل نے 2 نومبر 2026 کو اس کارروائی کا اعلان کیا، لیکن اصل کارروائی اس سے کچھ دن پہلے اکتوبر کے آخر میں ہوئی تھی۔ اس میں گوگل کے ساتھ جاپان کی نیشنل پولیس ایجنسی، لومن، ہیومن سیکیورٹی، پلوم، سنتھیئنٹ اور ٹرینڈ اے آئی شامل تھے۔ ان شراکت داروں نے مل کر بوٹ نیٹ کے کنٹرول سرورز اور ڈومینز کے خلاف قانونی کارروائی کی، جس سے مجرموں کا ڈیوائسز سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ گوگل کے مطابق اس کارروائی کا اثر صرف XCPE تک محدود نہیں رہا۔ اس کے ذریعے مجرموں کی رسائی کم از کم ایک کروڑ مزید متاثرہ ڈیوائسز تک بھی کٹ گئی، جو دوسرے مال ویئر کے ذریعے ان کے کنٹرول میں تھیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ ایک کروڑ ڈیوائسز لازمی طور پر XCPE سے متاثرہ نہیں تھیں، بلکہ وہ ان ہی مجرمانہ گروہوں کے کنٹرول سرورز سے جڑی ہوئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی گوگل نے ویڈیو اسٹرانگ ٹیکنالوجی سے اپنا تعلق ختم کر دیا، اور کمپنی اور اس کی مستقبل کی ذیلی کمپنیوں کو سرٹیفائیڈ اینڈرائیڈ ڈیوائسز بنانے سے روک دیا۔

سب سے پریشان کن بات: دروازہ اب بھی موجود ہے

اس کہانی کا سب سے مشکل حصہ یہ ہے کہ کنٹرول سرورز بند ہونے کے باوجود بیک ڈور ختم نہیں ہوا۔ گوگل اور سیکیورٹی محققین کے مطابق، یہ کوڈ فرم ویئر کا حصہ ہے، اس لیے عام صارف اسے خود نہیں ہٹا سکتا۔ ڈیوائس کو ری اسٹارٹ کرنے سے بھی یہ واپس آ جاتا ہے، کیونکہ یہ سسٹم میں گہرائی تک جما ہوا ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق، اگست 2026 کے بعد متاثرہ ہونے والی ڈیوائسز میں سسٹم پارٹیشن میں مستقل تبدیلی بھی کی گئی، جس کی وجہ سے اسے صاف کرنے کے لیے صاف فرم ویئر سے مکمل ری فلیش کرنا پڑے گا۔ یہ کام عام صارف کے لیے نہ آسان ہے، اور نہ ہی ہر صورت میں محفوظ طریقے سے ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کہتے ہیں کہ اس مسئلے کا کوئی سادہ پیچ نہیں ہے۔ کمپنی پر پابندی لگنے کے بعد، متاثرہ صارفین کے لیے مینوفیکچرر کی طرف سے اصلاح یا واپسی کا کوئی واضح راستہ بھی سامنے نہیں آیا۔


فیکٹری سے ہی چھپا دروازہ: 13 لاکھ اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز کیسے بوٹ نیٹ بن گئے

عام صارف کیا کرے، اور کیا سبق ملتا ہے؟

اگر آپ کے گھر میں بھی کوئی سستا یا غیر معروف برانڈ کا اینڈرائیڈ ٹی وی باکس ہے، تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، لیکن لاپرواہی بھی درست نہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس واقعے میں ابھی تک متاثرہ ماڈلز کی کوئی مکمل عوامی فہرست جاری نہیں ہوئی، اس لیے صرف برانڈ کا نام دیکھ کر یقین سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کا باکس محفوظ ہے یا نہیں۔ اگر آپ کا باکس ویڈیو اسٹرانگ یا اس کے میکول برانڈ سے منسلک ہے، یا کسی غیر معروف ذریعے سے خریدا گیا تھا، تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا عمومی مشورہ یہ ہے کہ ایسے باکس کو حساس کاموں، جیسے بینکنگ یا پاس ورڈز کے استعمال، کے لیے استعمال نہ کریں، اور ضرورت نہ ہو تو اسے انٹرنیٹ سے منقطع کر دیں۔ سب سے محفوظ راستہ یہ ہے کہ مشکوک باکس کو تبدیل کر کے کسی معروف اور قابل اعتماد برانڈ کی ڈیوائس استعمال کی جائے۔ کوئی بھی ایپ یا صفائی کا ٹول اس فرم ویئر بیک ڈور کو ختم کرنے کا دعویٰ کرے تو اس پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ یہ واقعہ تین سبق دیتا ہے: سستا ہونا ہی خوبی نہیں، سرٹیفکیشن بھی مکمل ضمانت نہیں، اور گھر کی چھوٹی اسمارٹ ڈیوائس بھی کسی بڑے مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ بن سکتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments