ایک واپسی جس نے ریکارڈ بک بدل دی
کچھ کتابیں صرف شائع نہیں ہوتیں، وہ ایک واقعہ بن جاتی ہیں۔ سارہ جے ماس کی نئی کتاب A Court of Splintered Harmony بھی ایسا ہی واقعہ ثابت ہوئی ہے۔ یہ کتاب ان کی مشہور سیریز A Court of Thorns and Roses کی چھٹی جلد ہے، اور اس کی اشاعت کے بعد برطانیہ میں فروخت کے اعداد نے پبلشنگ کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، نیلسن آئی کیو بک ڈیٹا کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ کتاب 27 اکتوبر کو شائع ہوئی اور صرف 31 اکتوبر تک، یعنی محض پانچ دن میں، برطانیہ میں اس کی 188,914 کاپیاں فروخت ہو گئیں۔ یہ تعداد کسی عام کامیابی کی علامت نہیں ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قارئین اس کہانی کا کتنی شدت سے انتظار کر رہے تھے، اور یہ کہ ایک اچھی کہانی برسوں بعد بھی اپنی کشش کھوتی نہیں ہے۔
1998 کے بعد سب سے تیز فروخت ہونے والی ایڈلٹ فینٹیسی
اس کامیابی کی اصل اہمیت اس ریکارڈ میں چھپی ہے جو اس کتاب نے قائم کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ کتاب 1998 سے قابل اعتماد ریکارڈ شروع ہونے کے بعد برطانیہ میں سب سے تیزی سے فروخت ہونے والی ایڈلٹ فینٹیسی بن گئی ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ریکارڈ کا دائرہ ایڈلٹ فینٹیسی تک محدود ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ہر قسم کی فینٹیسی کتاب سے زیادہ بکی ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بالغ قارئین کے لیے لکھی گئی فینٹیسی کی صنف میں اس سے پہلے کسی کتاب نے اتنی تیزی سے اتنی کاپیاں نہیں بیچی تھیں۔ نیلسن آئی کیو کے فلپ اسٹون نے اس نکتے کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی فینٹیسی میں سب سے زیادہ ہفتہ وار فروخت کا ریکارڈ اب بھی ہیری پوٹر کی کتابوں کے پاس ہے، لیکن ایڈلٹ فینٹیسی میں یہ نیا ریکارڈ ہے۔ یہ فرق سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ اس سے ریکارڈ کی اصل قدر سامنے آتی ہے۔
پچھلا ریکارڈ کس کے پاس تھا
ہر نیا ریکارڈ کسی پرانے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ کر بنتا ہے، اور یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز ریبیکا یاروس کی کتاب Onyx Storm کے پاس تھا، جس نے جنوری 2025 میں اپنے پہلے ہفتے میں 155,141 کاپیاں فروخت کی تھیں۔ سارہ جے ماس کی نئی کتاب نے اس تعداد کو 33,773 کاپیوں کے فرق سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ فرق چھوٹا نہیں ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی کتاب کی مانگ پچھلے ریکارڈ سے بھی کہیں زیادہ تھی۔ جب ایک کتاب پچھلے ریکارڈ کو اتنے واضح فرق سے توڑتی ہے، تو یہ صرف ایک مصنف کی کامیابی نہیں رہتی، بلکہ پوری صنف کی مقبولیت کا اعلان بن جاتی ہے۔ اس سے پبلشرز کو بھی یہ پیغام ملتا ہے کہ قارئین فینٹیسی کہانیوں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
برطانیہ کی مجموعی چارٹ میں پہلا نمبر
اس کتاب کی کامیابی صرف ایک صنف تک محدود نہیں رہی۔ رپورٹ کے مطابق، یہ کتاب برطانیہ کی مجموعی کتابوں کی چارٹ میں سیدھی پہلے نمبر پر آئی ہے۔ یہ سارہ جے ماس کے لیے تیسری بار ہے کہ ان کی کوئی کتاب برطانیہ کی مجموعی چارٹ میں پہلے نمبر پر پہنچی ہے۔ مجموعی چارٹ میں پہلا نمبر حاصل کرنا اس لیے خاص ہے، کیونکہ اس میں ہر صنف کی کتابیں شامل ہوتی ہیں، چاہے وہ ناول ہوں، سوانح عمری ہو یا کوئی اور موضوع ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ہفتے برطانیہ میں کسی بھی کتاب سے زیادہ لوگوں نے اسی کتاب کو خریدا۔ ایک فینٹیسی ناول کا تمام کتابوں میں سب سے آگے نکل جانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ کہانیاں اب صرف ایک مخصوص گروہ تک محدود نہیں رہیں، بلکہ عام قارئین کی پسند بن چکی ہیں۔
ہ
ارڈ بیک اور ایڈلٹ فکشن کے مزید ریکارڈ
اس کتاب نے صرف ایڈلٹ فینٹیسی کا ریکارڈ ہی نہیں توڑا، بلکہ اس کے ساتھ مزید کئی سنگ میل بھی جڑے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ 2013 میں ڈین براؤن کی کتاب Inferno کے بعد سب سے تیزی سے فروخت ہونے والی ہارڈ بیک کتاب بن گئی ہے۔ ڈین براؤن کی اس کتاب نے اپنے پہلے ہفتے میں تقریباً 229,000 کاپیاں فروخت کی تھیں، اس لیے یہ موازنہ اس کامیابی کی وسعت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، پبلشر بلومزبری کے مطابق، 2015 میں ہارپر لی کی کتاب Go Set a Watchman کے بعد کسی بھی ایڈلٹ فکشن کتاب نے برطانیہ میں ایک ہفتے میں اتنی بڑی فروخت نہیں کی تھی۔ یہ دونوں موازنے بتاتے ہیں کہ یہ کتاب صرف اپنی صنف میں نہیں، بلکہ مجموعی طور پر بڑی کتابوں کی فہرست میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔
پانچ سال کا انتظار اور قارئین کی وفاداری
اس ریکارڈ کی ایک اور دلچسپ وجہ اس سیریز میں طویل وقفہ ہے۔ یہ کتاب اس سیریز کی پہلی نئی جلد ہے جو پانچ سال سے زیادہ عرصے بعد آئی ہے۔ عام طور پر اتنے طویل وقفے کے بعد کسی سیریز کی مقبولیت کم ہو جانے کا خدشہ ہوتا ہے، لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس نکلا۔ قارئین نے نہ صرف اس کہانی کو یاد رکھا، بلکہ اس کی واپسی کا بے صبری سے انتظار کیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کہانی مضبوط ہو اور کردار قارئین کے دل میں جگہ بنا لیں، تو وقت کا فاصلہ محبت کو کم نہیں کرتا، بلکہ انتظار اسے اور بڑھا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اشاعت کے پہلے ہی دنوں میں کتابوں کی دکانوں پر رش دیکھا گیا اور آن لائن آرڈرز کی تعداد بھی بہت زیادہ رہی۔
دنیا بھر میں 1.7 ملین کاپیوں کی کہانی
برطانیہ کے اعداد کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی اس کتاب کی کامیابی حیران کن ہے۔ پبلشر بلومزبری کے مطابق، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا میں انگریزی زبان کے پرنٹ اور ای بک ایڈیشنز کی پری آرڈرز اور پہلے دن کی فروخت کو ملا کر تقریباً 1.7 ملین کاپیاں فروخت ہوئیں۔ یہ تعداد اس بات کی علامت ہے کہ یہ کتاب صرف ایک ملک کی کامیابی نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر کے قارئین اس کہانی سے جڑے ہوئے ہیں۔ پری آرڈر کا اتنا بڑا حجم یہ بھی بتاتا ہے کہ قارئین نے کتاب کے شائع ہونے سے پہلے ہی اس پر اعتماد کر لیا تھا۔ آج کے دور میں جب تفریح کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، کسی کتاب کے لیے اتنے لوگوں کو پہلے سے اپنی طرف متوجہ کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔
یہ سیریز کیوں اتنی مقبول ہے
A Court of Thorns and Roses کی مقبولیت کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کی کہانی میں فینٹیسی کی دنیا، پیچیدہ کردار، جذبات اور طاقت کے کھیل ایک ساتھ ملتے ہیں۔ قارئین صرف ایک جادوئی دنیا میں نہیں جاتے، بلکہ وہ کرداروں کے فیصلوں، ان کی کمزوریوں اور ان کی ہمت سے بھی جڑ جاتے ہیں۔ اس سیریز نے خاص طور پر نوجوان بالغ قارئین اور بالغ قارئین کے درمیان ایک مضبوط مقام بنایا ہے۔ اس کی زبان، اس کے مناظر اور اس کی کہانی کا انداز ایسا ہے کہ قاری خود کو اس دنیا کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ جب کوئی کہانی قاری کو اتنا قریب لے آتی ہے، تو وہ صرف ایک کتاب نہیں رہتی، بلکہ ایک تجربہ بن جاتی ہے جسے قاری دوسروں کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔
پبلشنگ کی دنیا کے لیے اس کا مطلب
اس ریکارڈ کا اثر صرف ایک مصنف یا ایک کتاب تک محدود نہیں رہے گا۔ پبلشنگ کی دنیا میں اس طرح کی کامیابی نئے رجحانات کو جنم دیتی ہے۔ پبلشرز فینٹیسی اور رومانٹسی کہانیوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے پر غور کریں گے، اور نئے مصنفین کو بھی اس صنف میں لکھنے کی حوصلہ افزائی ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، کتابوں کی دکانوں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی اس صنف کی مانگ بڑھے گی۔ تاہم، یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہر کتاب اس طرح کا ریکارڈ نہیں توڑ سکتی۔ ریکارڈ توڑنے کے پیچھے برسوں کی محنت، ایک وفادار قارئین کی جماعت اور ایک مضبوط کہانی ہوتی ہے۔ اس لیے اس کامیابی کو صرف اعداد کی نظر سے نہیں، بلکہ ایک طویل سفر کے نتیجے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
قارئین کے لیے آگے کیا ہے
اب سوال یہ ہے کہ اس کامیابی کے بعد آگے کیا ہوگا۔ کیا یہ سیریز مزید آگے بڑھے گی، یا یہ کہانی کسی نئے موڑ پر پہنچے گی، یہ بات آنے والے وقت میں ہی سامنے آئے گی۔ فی الحال قارئین کے لیے سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ ان کی پسندیدہ دنیا واپس آ گئی ہے اور اس نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ جو لوگ ابھی تک اس سیریز سے واقف نہیں ہیں، ان کے لیے یہ ریکارڈ ایک دعوت کی طرح ہے کہ وہ بھی اس دنیا کو جاننے کی کوشش کریں۔ اور جو لوگ پہلے سے اس کے مداح ہیں، ان کے لیے یہ لمحہ اس بات کا جشن ہے کہ ان کی پسندیدہ کہانی نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ کتابوں کی دنیا میں ایسے لمحے کم آتے ہیں، اس لیے یہ کامیابی واقعی یاد رکھنے کے قابل ہے۔



0 Comments