Ticker

6/recent/ticker-posts

قدیم برطانیہ کی "بادشاہ" دراصل ایک ملکہ تھی؟ — Verica کی کہانی

قدیم برطانیہ کی "بادشاہ" دراصل ایک ملکہ تھی؟ — Verica کی کہانی

قدیم برطانیہ کی "بادشاہ" دراصل ایک ملکہ تھی؟ — Verica کی کہانی

43 عیسوی میں روم کے بادشاہ کلاڈیئس نے برطانیہ پر حملہ کیا، اور اس حملے کا بہانہ ایک جلاوطن حکمران نے دیا تھا جس کا نام Verica تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں تقریباً 2,000 سال سے Verica کو ایک بادشاہ لکھا جا رہا ہے۔ اب ایک ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ شاید یہ بات غلط ہے — Verica شاید کوئی بادشاہ نہیں، بلکہ ایک ملکہ تھی۔

یہ دعویٰ ڈاکٹر مائلز رسل کا ہے، جو بورن ماؤتھ یونیورسٹی میں آثارِ قدیمہ کے شعبے کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کی تحقیق رسالے Current Archaeology میں شائع ہوئی ہے اور ان کی نئی کتاب "Caratacus: Great King of Britain" میں بھی اس پر بات ہوئی ہے۔ لیکن یہ بات صاف رکھنی ضروری ہے: یہ ایک محقق کا استدلال ہے، طے شدہ حقیقت نہیں — اور دوسرے ماہرین اس سے اختلاف بھی کرتے ہیں۔

قدیم برطانیہ کی "بادشاہ" دراصل ایک ملکہ تھی؟ — Verica کی کہانی

Verica کون تھی؟

Verica لوہے کے دور میں برطانیہ کے ایک قبیلے Atrebates کی حکمران تھی۔ اس قبیلے کا علاقہ آج کے برکشائر، ہیمپشائر اور مغربی سسیکس پر پھیلا ہوا تھا۔ تقریباً 40 عیسوی میں، طاقتور قبائلی رہنما Cunobelinus کی موت اور اس کے بیٹے Caratacus کے اقتدار میں آنے کے بعد علاقے میں کشمکش ہوئی، اور Verica کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ وہ بھاگ کر روم کے بادشاہ کلاڈیئس کے پاس چلی گئی۔

رومی مورخ کیسیئس ڈیو، جو تیسری صدی عیسوی کے شروع میں لکھ رہا تھا، نے درج کیا کہ "Berikos" یا "Bericus" نامی ایک برطانوی نے کلاڈیئس سے براہ راست اپیل کی، اور اسی اپیل نے بادشاہ کو حملے کا بہانہ دے دیا۔ ڈاکٹر رسل کا کہنا ہے کہ اس اپیل کے بغیر "غالباً روم کبھی حملہ نہ کرتا۔" وہ Verica کو برطانیہ کے رومی صوبہ بننے کی کہانی کی ایک بڑی کھلاڑی قرار دیتے ہیں — ایک ایسی شخصیت جس پر بہت سی کتابوں اور مضامین میں بات ہوئی، لیکن جسے ہمیشہ غلط صنف سے لکھا گیا۔

قدیم برطانیہ کی "بادشاہ" دراصل ایک ملکہ تھی؟ — Verica کی کہانی

رسل کی دلیل کیا ہے؟

رسل کی پہلی دلیل نام ہے۔ لوہے کے دور کے برطانیہ میں "a" پر ختم ہونے والے نام زیادہ تر عورتوں کے ہوتے تھے۔ اسی دور کی دو مشہور خواتین حکمرانوں — Iceni کی Boudica اور Brigantes کی Cartimandua — کے نام بھی اسی طرح ہیں، جبکہ مردوں کے نام عموماً "os" یا "us" پر ختم ہوتے تھے، جیسے Cunobelinus۔ رسل خود کہتے ہیں کہ یہ کوئی پکا اصول نہیں ہے، لیکن یہ لوہے کے دور کے برطانوی ناموں کے تقریباً 95 فیصد پر لاگو ہوتا ہے۔

دوسری دلیل سکے ہیں۔ اس دور کے دوسرے مرد حکمران، جیسے Cunobelinus، اپنے سکوں پر واضح طور پر مردانہ جنگجوؤں کی تصویریں بنواتے تھے، لیکن Verica کے سکوں پر گھوڑے پر سوار نازک، برہنہ سینے والی شکلیں بنی ہیں، جن کے بارے میں رسل لکھتے ہیں کہ وہ "ناقابل تردید طور پر نسوانی" لگتی ہیں۔

تیسری دلیل سکوں پر لکھا مخفف "COM F" ہے، جسے روایتی طور پر Commios filius یعنی "Commios کا بیٹا" پڑھا جاتا ہے — Commios وہ Atrebates رہنما تھا جس نے جولیس سیزر کے گال پر حملے میں اس کا ساتھ دیا تھا۔ رسل کہتے ہیں کہ اسے اتنی ہی آسانی سے Commios filia یعنی "Commios کی بیٹی" بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ اور سکوں پر لکھا لاطینی لقب "rex" بھی رسل کے مطابق کوئی صنفی لقب نہیں تھا — اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ Verica رومی بادشاہ کی مکمل منظوری سے حکومت کر رہی تھی۔

رسل ایک اور نکتہ بھی اٹھاتے ہیں: رومی مورخ کلاڈیئس کو ایک کمزور، بیوی کے اشاروں پر چلنے والا بادشاہ بنا کر پیش کرتے تھے، اور Verica کو عورت ماننے سے ڈیو کی یہ کہانی بھی سمجھ میں آتی ہے کہ مہم صرف اس لیے ہوئی کیونکہ ایک "وحشی عورت" نے بادشاہ کے کان بھرے تھے۔ ان کے مطابق، Verica کا اصل کردار اس سے کہیں زیادہ اہم تھا — اس کے ساتھ ہونے سے ہی مہم کامیاب ہوئی، کیونکہ اس نے رومیوں کو زمین پر حکمتِ عملی کی معلومات اور مدد فراہم کی۔

اس دلیل کے پیچھے ایک اور تحقیق بھی ہے: 2025 میں رسل نے ایک مطالعے میں بتایا تھا کہ لوہے کے دور کی جنوبی برطانوی برادریوں میں عورتیں اپنے آبائی علاقے میں رہتی تھیں اور مرد ان کے پاس آتے تھے، یعنی زمین اور مرتبہ عورتوں کی نسل سے منتقل ہوتا تھا۔

دوسرے ماہرین کیا کہتے ہیں؟

لیکن سب ماہرین اس سے متفق نہیں ہیں، اور یہ اختلاف اس کہانی کا اہم حصہ ہے۔

ویانا یونیورسٹی کی ماہر آثار قدیمہ کیتھرینا ریبے سیلیسبری کو سکوں کے ثبوت پر شک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بہت ہی سادہ تصویروں میں برہنہ خاتون کے جسم کو برہنہ مرد کے جسم سے الگ کرنا "تھوڑا مشکل" لگتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے رومی کتبوں کے ماہر راجر ٹاملن کہتے ہیں کہ اگرچہ نام کے آخر میں "a" والی بات قابلِ غور ہے، لیکن کیسیئس ڈیو نے واضح طور پر اس حکمران کو مرد مانا تھا اور اسے "Bericus" کہا تھا۔ وہ رسل کے اس دعوے سے بھی اختلاف کرتے ہیں کہ "rex" کا لقب مرد اور عورت دونوں حکمرانوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

رسل خود اس بحث کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس سے بحث اور اختلاف پیدا ہوتا ہے تو یہ بہتر ہے، کیونکہ ایک طرفہ کہانی بہت عرصے سے چلی آ رہی ہے اور اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

یہ بحث کیوں اہم ہے؟

Verica مرد تھی یا عورت — یہ سوال ابھی کھلا ہے، اور اسی لیے یہ کہانی دلچسپ ہے۔ اگر رسل درست ہیں تو ایک عورت کی جلاوطنی نے ایک پورے جزیرے کی تقدیر بدل دی تھی، اور 19ویں صدی کے مورخوں کی ایک سوچ نے 2,000 سال تک ایک طاقتور خاتون کو تاریخ سے غائب رکھا۔ اگر وہ غلط ہیں تو بھی یہ بحث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں لکھی ہر بات کو ثبوتوں سے پرکھنا چاہیے — کبھی کبھی ایک سکہ، ایک نام کا آخری حرف، یا ایک تصویر صدیوں پرانی سمجھ کو چیلنج کر دیتی ہے۔

ماخذ: Smithsonian میگزین (5 نومبر 2026)، بورن ماؤتھ یونیورسٹی کی تحقیق، phys.org (4 نومبر 2026)، Current Archaeology (2026)۔ تمام حقائق انہی ماخذ سے لیے گئے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments